کاروار 27؍دسمبر (ایس او نیوز)نرسنگ کالج میں زیر تعلیم طالبات کے ساتھ نامناسب رویہ اپنانے والے انچارج پرنسپال گووندپّا ڈی کے کے خلاف طالبات نے مزید الزامات کی جھڑی لگادی ہے۔ اسی دوران پرنسپال کی حمایت میں بھی مزید کچھ طالبات نے گروہ بندی کرلی ہے۔
ضلع اسپتال کے احاطے میں جی این ایم ادارے کے تحت نرسنگ کالج کے پرنسپال گووندپّا پر طالبات کا الزام ہے کہ غیر حاضر رہنے والی طالبات کوبھی انٹرنل مارکس دینے کا لالچ دکھاکر ان سے رقم اور جنسی تعاون کا مطالبہ کیا کرتے ہیں۔شہر کے کچھ سماجی کارکنان اور طالبات کے والدین نے کالج میں پہنچ کر جب پرنسپال کو آڑے ہاتھوں لیا تو پرنسپال نے ایسی کسی حرکت سے بالکل انکار کردیا۔ اس موقع پر پرنسپال کی حمایت میں کچھ طالبات سامنے آئیں اور کہا کہ یہاں اس طرح کی کوئی بھی بات نہیں ہوتی۔ مگر جن طالبات نے شکایت کی تھی انہوں نے میڈیا کے روبرو اپنے ساتھ ہونے والی ہراسانی کی تمام تفصیلات بیان کیں۔اور کہا کہ مختلف کام یا پھر مارکس دینے کے بہانے پرنسپال کی طرف سے کی جارہی جنسی ہراسانی کی بات ایک حقیقت ہے۔
طالبات کی طرف سے لگائے الزامات میں کہاگیا ہے کہ اِن سروس طالبات میں سے کچھ طالبات غیر حاضر رہی تھیں۔ پرنسپال نے ان کو حاضر دکھانے کے لئے مطالبہ سامنے رکھا اور رقم وصول کی۔ لیکن جن طالبات نے رقم ادا نہیں کی انہیں ہمیشہ ہراساں کرناشروع کیا اور انہیں جو وظیفہ ملتا ہے اس میں کٹوتی کرنے کی سفارش کردی۔اس ضمن میں طالبات نے اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے میڈیا کے سامنے کچھ دستاویزات بھی پیش کیے۔
پرنسپال کے ہاتھوں ہراسانی کا شکار ہونے والی طالبات نے ضلع ڈپٹی کمشنر کے پاس جاکر شکایت بھی درج کروائی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ بدسلوکی کے علاوہ بدعنوانی کے معاملات میں بھی ڈی سی کی طرف سے پرنسپال کے خلاف تحقیقات کرنے پر غور ہورہا ہے۔اس کے علاوہ جن شکتی ویدیکے کے مادھو نائک اور طلبہ یونین کے راگھو نائک او رسنگیتا نائک وغیرہ نے نرسنگ کالج میں پہنچ کر ستم رسیدہ طالبات کے ساتھ ملاقات کی اور ان کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سماجی کارکنان اور میڈیا والے کالج میں پہنچنے کی خبر ملتے ہی پرنسپال نے کالج سے نکل جانے میں عافیت سمجھی۔
کاروار کے اس نرسنگ کالج میں صرف پرنسپال کی ہراسانی ہی ایک مسئلہ نہیں ہے ۔بلکہ یہاں پر طالبات کی سیکیوریٹی کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے۔ ہاسٹل کمپاونڈ کی دیواریں نہیں ہیں۔نہ کوئی چوکیدار ہے اور نہ کھاناپکانے کے لئے کوئی باورچی ہے۔سی سی کیمرے اور مستقل وارڈن کا بھی انتظام نہیں ہے۔